آنچل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دوپٹے چادر وغیرہ کا کنارہ "آنچل سینہ پر ڈال کر چلیں، پاؤں جھٹک جھٹک کر نہ چلیں،پردہ کی اوٹ سے بولیں، تصنع اور بناؤ کی بولی نہ بولیں۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٠٩:١ ) ٢ - گوشہ دامن، بالائی حصہ جسم کے کسی اور ملبوس کا کنارہ۔  وہ چاندنی کا آنچل پھیلا ہوا زمیں پر فواروں کا اچھلنا پھولوں کی نگہت تر      ( ١٩١٠ء، سرور جہاں آبادی، خمکدہ سرور، ٦٢ )

اشتقاق

یہ لفظ سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے، اور اردو میں اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوپٹے چادر وغیرہ کا کنارہ "آنچل سینہ پر ڈال کر چلیں، پاؤں جھٹک جھٹک کر نہ چلیں،پردہ کی اوٹ سے بولیں، تصنع اور بناؤ کی بولی نہ بولیں۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٠٩:١ )

جنس: مذکر