آنڈو

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - فوطوں والا، خصی کی ضد۔ جس کا آنڈو بکے وہ بدھیا کیوں کرے۔ (کہاوت)      ( فرہنگ آصفیہ، ٢٤٧:١ ) ٢ - وہ شخص یا جانور جس کے بڑے بڑے خصیے ہوں، پر شہوت، شہوتی، سانڈ، بجار۔ (فرہنگ آصفیہ، 247:1)

اشتقاق

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'آنڈ' کے ساتھ 'و' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'آنڈو' بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٥ء میں "فرہنگ آصفیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: آنْڈ
جنس: مذکر