آنک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جانچ، تخمینہ، اندازہ۔ "اس حال میں تمہاری آنْک ٹھیک نہیں ہے کسی اور کو دکھانا چاہیے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٩٥:١ ) ٢ - علامت، نشان (جو قیمت فروخت ظاہر کرنے کے لیے سامان پر ڈالی ہو)، مہر، سکوں کے حروف اور ہندسے وغیرہ۔ (ماخوذ : پلیٹس، امیراللغات، 195:1) ٣ - حروف تہجی کا کوئی حرف۔  پوتھی خیال یار کی آئی ہے جب سیں ہات دل کے ورق پہ تب سیتی لکھتا ہوں غم کی آنک      ( ١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٢٩٩ ) ٤ - [ ریاضی ] ہندسہ، عدد، صفر۔ "حساب کرنے کے اصل آنک دس ہیں۔"    ( ١٨٣٤ء، تعلیم نامہ، ٧٧:١ ) ٥ - اصل رقم / شرح اور مدت کا حاصل ضرب۔ "١٠ پکے آنکوں کا وہی سود ہوتا ہے جو سو روپیے کا۔"    ( ١٩١٥ء، مہاجنی حساب، ٢١ )

اشتقاق

سنکسرت سے ماخوذ ہے اردو زبان میں اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جانچ، تخمینہ، اندازہ۔ "اس حال میں تمہاری آنْک ٹھیک نہیں ہے کسی اور کو دکھانا چاہیے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٩٥:١ ) ٤ - [ ریاضی ] ہندسہ، عدد، صفر۔ "حساب کرنے کے اصل آنک دس ہیں۔"    ( ١٨٣٤ء، تعلیم نامہ، ٧٧:١ ) ٥ - اصل رقم / شرح اور مدت کا حاصل ضرب۔ "١٠ پکے آنکوں کا وہی سود ہوتا ہے جو سو روپیے کا۔"    ( ١٩١٥ء، مہاجنی حساب، ٢١ )

جنس: مؤنث