آنکھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ اولا ]  وہ عضو جس سے دیکھتے ہیں، آلہ بصارت۔  کہیں کس سے کہ ہیں تعبیر اک خواب مسرت کی یہ آنکھیں اشک ریز اپنی یہ دامن خونچکاں اپنا      ( ١٩٢١ء، ضیائے سخن، ٦٤ ) ٢ - [ مجازا ] دیکھنے کی قوت، بصارت، نگاہ، نظر، بینائی چشم۔  دل چرایا ہے وہ اب آنکھ ملائیں کیونکر سامنے ہوتی ہے مشکل سے گنہگار کی آنکھ    ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ١٨٤ ) ٣ - دیکھنے کی صلاحیت۔ "حاکم کے آنکھ نہیں ہوتی کان ہوتے ہیں۔"    ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٢٥٣:١ ) ٤ - دیکھنے کا انداز(جس سے دل کا حال معلوم ہو جائے)، تیور۔  دبدبہ بھی ہے وہی طرز سخن بھی ہے وہی آنکھ بھی ہے وہی ابرو کی شکن بھی ہے وہی      ( ١٩٦٣ء، مراثی نسیم، ١١:٣ ) ٥ - مشاہدہ، دیکھنے کا عمل۔  سنی سنائی پہ ایقان واہ کیا کہنا بغیر آنکھ کے عینی گواہ کیا کہنا      ( ١٩٥٦ء، اختر (سجاد علی خاں)، مسدس، ٨ ) ٦ - توجہ، رجحان، نظر التفات، نگاہِ رغبت۔  صاحب کی آنکھ اب جو عروس اجل پہ ہے اپنی بھی آنکھ خالق عز و جل پہ ہے      ( ١٩٢٥ء، جاوید (سید محمد کاظم)، مرثیہ، ١١ ) ٧ - مروت، لحاظ، پاس۔  دم توڑتی ہوں پیاس سے تم پر اثر نہیں کل تک جو تھی وہ آنکھ نہیں وہ نظر نہیں      ( ١٩٦٥ء، منظور رائے پوری، مرثیہ، ٧ ) ٨ - تمیز، شناخت، امتیاز، اٹکل، پرکھ۔ "اس کے خاوند کو جواہرات کی آنکھ تھی۔"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، کیفی، ١٣٦ ) ٩ - بصیرت، چشم معرفت، بالغ نظری، عقل، سمجھ۔ "میں دعا دیتا ہوں کہ خدا پٹنہ والوں کو سمجھ اور آنکھ دے۔"      ( ١٩٢٤ء، مکتوبات شاد عظیم آبادی، ١٩١ ) ١٠ - اشارہ، ایما۔  صحبت کا رقیبوں کی ہے ادنٰی یہ کرشمہ جو آنکھ سے فرماتے ہیں وہ دل میں نہیں ہے      ( ١٩٣٦ء، غزل کوکب، ماہنامہ، مسافر، مراد آباد، جنوری، ٢٧ ) ١١ - مہارت، مشق، دخل۔  ہشیار اسیر آنکھ ہے تجکو جو سخن میں رکھتے ہیں وہ سر پر میرے دیوان کو ادب سے      ( ١٨٨١ء، مسیو، امیراللغات، ٢١٠:١ ) ١٢ - امید، توقع، آسرا۔ امیر اللغات، 210:1 ١٣ - گنے، بانس یا کسی اور پودے کی وہ جگہ جہاں سے شاخ پھوٹتی ہے، (بیشتر) گرہ۔ "قلم جب بناویں تو نیچے کی جانب اور اوپر کے حصّے کی جانب قریب قریب آنکھ چھوڑ دینی چاہیے۔"    ( ١٩٠٣ء، باغبان، ١٩ ) ١٤ - شریفے کی پوست کا حلقے دار ابھار؛ انناس وغیرہ کے حلقے (ماخوذ : جامع اللغات، 61:1) ١٥ - کریلے کے اندر کا وہ پوست جس میں بیج لپٹا ہوتا ہے، جیسے کریلے کو چھیل کاٹ کر اور اس کی آنکھوں میں سے بیج نکال کر نمک ملو اور کچھ دیر ہوا میں رکھ دو۔ ١٦ - لہسن کا جوا، جیسے : بڑی آنکھ کا لہسن چھانٹ کر لانا۔ ١٧ - تخمینہ، اندازہ  لیا نہ دل مرا اک بوسے پر وہ یوں بولا ہماری آنکھ میں اتنے کا تو یہ مال نہیں      ( ١٨٢٤ء، مصحفی، دیوان (ق)، ١٧٨ ) ١٨ - اولاد، بیٹا بیٹی وغیرہ۔ "مجھے دونوں آنکھیں برابر ہیں جو بڑی کو دوں گی وہی چھوٹی کو دوں گی۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٥٣:١ ) ١٩ - گھٹنے کے دونوں طرف کا گھڑا۔ (امیر اللغات، 21:1) ٢٠ - چھایا، سایا، آسیب، خیالی یا وہمی صورت (عموماً 'پر' کے ساتھ مستعمل)۔ (فرہنگ آصفیہ، 254:1) ٢١ - حلقہ، جیسے زنجیر کی آنکھ، رزہ کی آنکھ وغیرہ (اکثر مضاف الیہ کے ساتھ مستعمل)۔  وہ تیغ تیز آبینہ پیکر پری نژاد قبضے کی آنکھ، فون کی سورت پہ حق کا صاد    ( ١٩٦٢ء، ٦٢ء کے چند جدید مرثیے، ٧٨ ) ٢٢ - حرف کے دائرے کی صورت حال یا گول کشش۔  وہ دائروں کی آنکھ نہیں وہ نظر نہیں فعلوں کا ہے یہ حال کہ اک حال پر نہیں    ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٣١:٧ ) ٢٣ - پتلی۔ "میری داہنی آنکھ میں پانی اتر آیا ہے۔"      ( ١٩١٣ء، مکاتیب حالی، ٧٧ ) ٢٤ - خوردبین وغیرہ کا شیشہ، عدسہ، لینس۔ "خوردبین کی آنکھ کے نیچے رکھ کر دیکھ سکتی ہے۔"    ( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ١٧ ) ٢٥ - سگنل۔ "مسافر کے لیے لازم ہے کہ سفر کے آداب سے واقف ہو، ایک خاص شریفانہ رفتار سے تجاوز نہ کرے، سرخ آنکھ نظر آئے تو رک جائے، سبز آنکھ نمودار ہو تو چل پڑے۔"    ( ١٩٧٥ء، وزیر آغا، ماہنامہ، الشجاع، سالنامہ، کراچی، ٣٩ ) ٢٦ - مدار کا پودا، آک کا درخت۔ "جنگل میں ایک درخت ہوتا ہے جس کو آنکھ یا آک کہتے ہیں، اس کے پھول بالکل آنکھوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، حسن نظامی، پھول، ٢٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'آکش' سے ماخوذ ہے قدیم زمانے میں 'آنکہ' اور 'آنک' بھی استعمال ہوتا رہا لیکن آنکھ ہی رائج ہوا سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - دیکھنے کی صلاحیت۔ "حاکم کے آنکھ نہیں ہوتی کان ہوتے ہیں۔"    ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٢٥٣:١ ) ٨ - تمیز، شناخت، امتیاز، اٹکل، پرکھ۔ "اس کے خاوند کو جواہرات کی آنکھ تھی۔"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، کیفی، ١٣٦ ) ٩ - بصیرت، چشم معرفت، بالغ نظری، عقل، سمجھ۔ "میں دعا دیتا ہوں کہ خدا پٹنہ والوں کو سمجھ اور آنکھ دے۔"      ( ١٩٢٤ء، مکتوبات شاد عظیم آبادی، ١٩١ ) ١٣ - گنے، بانس یا کسی اور پودے کی وہ جگہ جہاں سے شاخ پھوٹتی ہے، (بیشتر) گرہ۔ "قلم جب بناویں تو نیچے کی جانب اور اوپر کے حصّے کی جانب قریب قریب آنکھ چھوڑ دینی چاہیے۔"    ( ١٩٠٣ء، باغبان، ١٩ ) ١٨ - اولاد، بیٹا بیٹی وغیرہ۔ "مجھے دونوں آنکھیں برابر ہیں جو بڑی کو دوں گی وہی چھوٹی کو دوں گی۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٥٣:١ ) ٢٣ - پتلی۔ "میری داہنی آنکھ میں پانی اتر آیا ہے۔"      ( ١٩١٣ء، مکاتیب حالی، ٧٧ ) ٢٤ - خوردبین وغیرہ کا شیشہ، عدسہ، لینس۔ "خوردبین کی آنکھ کے نیچے رکھ کر دیکھ سکتی ہے۔"    ( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ١٧ ) ٢٥ - سگنل۔ "مسافر کے لیے لازم ہے کہ سفر کے آداب سے واقف ہو، ایک خاص شریفانہ رفتار سے تجاوز نہ کرے، سرخ آنکھ نظر آئے تو رک جائے، سبز آنکھ نمودار ہو تو چل پڑے۔"    ( ١٩٧٥ء، وزیر آغا، ماہنامہ، الشجاع، سالنامہ، کراچی، ٣٩ ) ٢٦ - مدار کا پودا، آک کا درخت۔ "جنگل میں ایک درخت ہوتا ہے جس کو آنکھ یا آک کہتے ہیں، اس کے پھول بالکل آنکھوں کی شکل کے ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، حسن نظامی، پھول، ٢٤ )

اصل لفظ: آکش
جنس: مؤنث