آوا
معنی
١ - کمھار کی بھٹی جس میں کچے برتن پکائے جاتے ہیں۔ آوا بنتا ہے قبل سب کے برتن بنتے ہیں اس کے پیچھے ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ٣٢ ) ٢ - اینٹیں پکانے کا بھٹا، پژاوہ۔ بہت سی جمع کر لو گھر میں اینٹیں چڑھا رکھا ہے میں نے بھی اک آوا ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خاں، ٤٧٩ ) ٣ - چولھے کے سامنے ہانڈی وغیرہ کو آنچ لگانے کے لیے عارضی طور پر راکھ اور آگ سے بنایا ہوا گھیرا، راہا۔ "دودھ آوے میں رکھا اونٹ رہا تھا۔" ( خواجہ محمد شفیع، ابلیس، ١٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ سنسکرت میں 'آ پاک' کہتے ہیں ممکن ہے کہ اس لفظ کا کوئی تعلق سنسکرت سے بھی ہو۔ سب سے پہلے اردو میں ١٦٦٥ء کو "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - چولھے کے سامنے ہانڈی وغیرہ کو آنچ لگانے کے لیے عارضی طور پر راکھ اور آگ سے بنایا ہوا گھیرا، راہا۔ "دودھ آوے میں رکھا اونٹ رہا تھا۔" ( خواجہ محمد شفیع، ابلیس، ١٥ )