آوارہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سرگرداں، پریشاں۔  لیے کمر پہ گناہوں کا اپنے پشتارہ فضا میں جس کی ابھی تک ہے روح آوارہ    ( ١٩٥٤ء، مراثی نسیم، ٢١٧:٣ ) ٢ - پراگندہ، منتشر، تتربتر، بکھرا ہوا۔ "اس کا مقصد چیمبر کو آوارہ (Stray) اور پراگندہ شعاعوں سے محفوظ رکھنا ہے۔"    ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعات، ٣٠٨ ) ٣ - تباہ، برباد، ضائع  سامان عیش سب کا سب آوارہ ہو گیا نوبت سحر کی کوچ کا نقارہ ہو گیا    ( ١٩١٨ء، سحر، سراج میر خاں، بیاض سحر، ٧٢ ) ٤ - لچا، بدچلن، بداطوار، اوباش۔ "دیکھتی ہو اس آوارہ بدمعاش کو۔"      ( ١٩٦١ء، ہالہ، اے۔آر خاتون ) ٥ - خاندان، گھر یا وطن وغیرہ سے جدا یا دور افتادہ، نگھرا، خانہ بدوش۔  جس طرح صحرائے افریقہ کا آوارہ کوئی یا عرب کی منزلوں کا جس طرح مارا کوئی      ( ١٩١٠ء، جذبات نادر، ١٥٤ ) ٦ - غیر آباد، خالی، ویران "ایک اور دالان، بے چھت سہہ درہ آوارہ پڑا ہے۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٦٧٤ ) ٧ - سب سے بچھڑ کر، اکیلا، تن تنہا۔  یکٹ جائے گا شہرکو شاہ کیوں ختم بن چلے گا سو آوارہ کیوں      ( ١٦٨٣ء، مثنوی رضوان شاہ و روح افزاء، ٦٠ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'آوارہ' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ صفت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پراگندہ، منتشر، تتربتر، بکھرا ہوا۔ "اس کا مقصد چیمبر کو آوارہ (Stray) اور پراگندہ شعاعوں سے محفوظ رکھنا ہے۔"    ( ١٩٧٠ء، جدید طبیعات، ٣٠٨ ) ٤ - لچا، بدچلن، بداطوار، اوباش۔ "دیکھتی ہو اس آوارہ بدمعاش کو۔"      ( ١٩٦١ء، ہالہ، اے۔آر خاتون ) ٦ - غیر آباد، خالی، ویران "ایک اور دالان، بے چھت سہہ درہ آوارہ پڑا ہے۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٦٧٤ )