آواز

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ اصلا ]  کان کے ذریعے ہوا کی لہر یا حرکت کا احساس، جو سنائی دے، صدا، ندا، صوت (جیسے : ہانک پکار، گانے کی دھن، لے، تان، باج، جھنکار، ٹھائیں ٹھائیں، چیخ، کراہ، گونج، بھنبناہٹ، آہٹ، دھماکہ وغیرہ)۔  تالاب میں بھی ہے بج رہا ساز لہروں اور کشتیوں کی آواز      ( ١٩١٠ء، جذبات نادر، ٢٩٤ ) ٢ - [ مجازا ]  سودے والے یا فقیر کی آواز۔ "این اے سی کی اجازت کے بغیر پھل اور ترکاری والے دفتر سے متصل چبوترے پر بیٹھتے ہیں اور دن بھر ان کی آوازیں کام میں خلل انداز ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٥٢ء، ہفت روزہ 'مراد' خیرپور، ٦ جنوری، ٢ ) ٣ - بلاوا  استغاثہ جو بلند آپ نے مقتل میں کیا شہ کی آواز پہ لبیک کا اک شور اٹھا      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ١٣ ) ٤ - شہرت، آوازہ۔ "حسن بانو کی سخاوت اور خوبصورت ہونے کا آواز سنتے ہی عاشق ہو گیا۔"      ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ١٦ ) ٥ - اعلان، مطالبہ، احتجاج۔ "مسلمان عورت . اپنے حقوق کی واپسی کے مطالبے میں تنہا نہیں ہے اس کی آواز پر ہر . مسلمان لبیک کہے گا۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدی الخیری، عالم نسواں، ٢٤ ) ٦ - کلمات، کلام، بات یا باتیں، گفتگو۔ "ہاتف غیب نے یہ آواز فوج اسلام کے کان میں پہونچائی۔"      ( ١٧٢٣ء، کربل کتھا، ١٤٢ ) ٧ - زبان، بولی۔  وہب کی لاش پہ نوحہ جو پڑھے جاتی تھی اس کی آواز سمجھ ہی میں نہیں آتی تھی      ( ١٩٥٩ء، مراثی نسیم، ٣١٧:٣ ) ٨ - (روح، ضمیر یا دل وغیرہ کا) تقاضا، مخلصانہ تجویز وغیرہ (جو ذاتی خواہش سے ہو اور جو عوارض و حالات سے متاثر نہ ہو)۔ "دل کی آواز سادہ ہوتی ہے، کلمہ حق ہمیشہ سادہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، خطبات، ٨٤ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں ماخوذ ہے۔ سب سے پہلے ١٦٦٥ء میں "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  سودے والے یا فقیر کی آواز۔ "این اے سی کی اجازت کے بغیر پھل اور ترکاری والے دفتر سے متصل چبوترے پر بیٹھتے ہیں اور دن بھر ان کی آوازیں کام میں خلل انداز ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٥٢ء، ہفت روزہ 'مراد' خیرپور، ٦ جنوری، ٢ ) ٤ - شہرت، آوازہ۔ "حسن بانو کی سخاوت اور خوبصورت ہونے کا آواز سنتے ہی عاشق ہو گیا۔"      ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ١٦ ) ٥ - اعلان، مطالبہ، احتجاج۔ "مسلمان عورت . اپنے حقوق کی واپسی کے مطالبے میں تنہا نہیں ہے اس کی آواز پر ہر . مسلمان لبیک کہے گا۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدی الخیری، عالم نسواں، ٢٤ ) ٦ - کلمات، کلام، بات یا باتیں، گفتگو۔ "ہاتف غیب نے یہ آواز فوج اسلام کے کان میں پہونچائی۔"      ( ١٧٢٣ء، کربل کتھا، ١٤٢ ) ٨ - (روح، ضمیر یا دل وغیرہ کا) تقاضا، مخلصانہ تجویز وغیرہ (جو ذاتی خواہش سے ہو اور جو عوارض و حالات سے متاثر نہ ہو)۔ "دل کی آواز سادہ ہوتی ہے، کلمہ حق ہمیشہ سادہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، خطبات، ٨٤ )

جنس: مؤنث