آوازہ
معنی
١ - شہرت، چرچا، دھوم، نام آوری۔ جب سے سنا ہے آپ کا آوازہ جمال جس دل کو دیکھیے وہ مہیایے عشق ہے ( ١٩٢٣ء، کلیات حسرت، ١٨١ ) ٢ - طعن و تشنیع، پھبتی (عموماً جمع کے ساتھ)۔ "حقارت کے آوازے ہوں گے "شیم شیم" کے نعرے ہوں گے۔" ( ١٩١٥ء، سی پارہ دل، ١٩٤:١ ) ٣ - آواز، شور و غل، بانگ وغیرہ۔ سودا کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگو آوازہ دہل ہے خوش آئند دور کا ( ١٩١٧ء، کلیات حسرت، ١١٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - طعن و تشنیع، پھبتی (عموماً جمع کے ساتھ)۔ "حقارت کے آوازے ہوں گے "شیم شیم" کے نعرے ہوں گے۔" ( ١٩١٥ء، سی پارہ دل، ١٩٤:١ )