آور

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - مترادف : صاحب، والا، جیسے : زورآور، نام آور، زبان آور۔ "کسی سوتے ہوئے جانور پر شیر حملہ آور ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، ماہنامہ 'نگار' فروری، ١٣٦ ) ٢ - لانے والا (اکثر ہندی الفاظ کے ساتھ بھی مستعمل، جیسے : دست آور)۔ "جن کے دل میں تخم دین کے لیے زیادہ قابل اور بارآور زمین ملے۔"      ( ١٨٩٧ء، دعوت اسلام، ٢٢ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'آوردن' سے مشتق ہے اور اردو میں تراکیب میں بطور لاحقہ فاعلی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٥ء میں "چمن تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مترادف : صاحب، والا، جیسے : زورآور، نام آور، زبان آور۔ "کسی سوتے ہوئے جانور پر شیر حملہ آور ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، ماہنامہ 'نگار' فروری، ١٣٦ ) ٢ - لانے والا (اکثر ہندی الفاظ کے ساتھ بھی مستعمل، جیسے : دست آور)۔ "جن کے دل میں تخم دین کے لیے زیادہ قابل اور بارآور زمین ملے۔"      ( ١٨٩٧ء، دعوت اسلام، ٢٢ )

اصل لفظ: آوردن