آڑا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ٹیڑھا، ترچھا، اریب، سیدھے رخ کے خلاف۔ "پانی کے شوق اور اپنے پیچ میں آپ بل کھا کر سرا ایسا آڑا ہو جاتا ہے کہ نوک سوراخ پر سے سرک جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٣ء، مکاشفات آزاد، ٣٣ ) ٢ - [ مجازا ]  جو اصول یا معمول کے خلاف ہو(کام یا بات)، بے تکا، الٹا سیدھا۔  اپنوں سے بھی چلتا تھا ستمگار جو آڑا شمشیر نے منہ ایک طمانچے میں بگاڑا      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (ق)، ١٤ ) ٣ - مقیشی تار کا ڈور یا جس کے جامے شادی بیاہ میں بنتے ہیں (فرہنگ اثر، 110:2)  کوئی سیدھی بات صاحب کی نظر آتی نہیں آپ کی پوشاک کو کپڑا بھی آڑا چاہیے      ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ١٨٤:٢ ) ٤ - عرضاً، پٹ، لٹیوان، پٹوا، دائیں سے بائیں کو، طوطا اور کھڑا کے خلاف۔ "یہ تمام افعال ان ریشوں کے ذریعہ انجام پاتے ہیں جو معدہ میں آڑے، لمبے اور چوڑے طور پر مخصوص ترکیب سے واقع ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٢، ٣٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'آورک' ہے لیکن اردو زبان میں داخل ہو کر 'آڑا' مستعمل ہے سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹیڑھا، ترچھا، اریب، سیدھے رخ کے خلاف۔ "پانی کے شوق اور اپنے پیچ میں آپ بل کھا کر سرا ایسا آڑا ہو جاتا ہے کہ نوک سوراخ پر سے سرک جاتی ہے۔"      ( ١٩٠٣ء، مکاشفات آزاد، ٣٣ ) ٤ - عرضاً، پٹ، لٹیوان، پٹوا، دائیں سے بائیں کو، طوطا اور کھڑا کے خلاف۔ "یہ تمام افعال ان ریشوں کے ذریعہ انجام پاتے ہیں جو معدہ میں آڑے، لمبے اور چوڑے طور پر مخصوص ترکیب سے واقع ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٢، ٣٨٢ )

اصل لفظ: آورک
جنس: مذکر