آکار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جسم، روپ، صورت، شکل  پڑنے لگا ماند چندر ماں کا آکار دھندلانے لگا فلک پہ تاروں کا غبار      ( ١٩٤٧ء، روپ، ١٢٥ ) ٢ - عالم، ناسوت۔ "نہیں تو وہ آکار میں پڑ کے روئے گا۔"      ( ١٦٣٥ء، مینا ستونتی، ٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں اپنی اصلی حالت اور معنی کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - عالم، ناسوت۔ "نہیں تو وہ آکار میں پڑ کے روئے گا۔"      ( ١٦٣٥ء، مینا ستونتی، ٦ )

جنس: مذکر