آگ
معنی
١ - غضبناک، خشمگیں۔ "برقنداز آگ ہو گیا اور اس نے دو تین قیدیوں کی امداد سے مجکو اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔" ( ١٩١٤ء، نمدر دہلی کے افسانے، ١٢٢:١ ) ٢ - [ مجازا ] حار، گرم، خون میں گرمی اور سوداویت پیدا کرنے والا، جیسے : ابھی پانی نہیں پڑا آج کل کے آم آگ ہوتے ہیں۔ (امیراللغات، 145:1) ہجر میں آگ ہو گیا پانی دل کو کر دیتی ہے کباب شراب ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ٤٣:٢ ) ١ - نار، آتش، شعلہ، عناصر اربعہ میں سے ایک عنصر کا نام۔ "آگ کی جستجو میں جانا اور پیغمبری لے کر پلٹنا موسٰی کے وقت سے اس وقت تک تو کبھی دیکھا نہیں گیا۔" ( ١٩٢٤ء، مکتوبات نیاز، ١٤١ ) ٢ - دھوپ کی تیزی، سخت گرمی، لو۔ آگ برسائے فلک یا آب حیوان بہار زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے پشیمان بہار ( ١٩٥٧ء، یاس، گنجینہ، ٣٩ ) ٣ - تپش، حدّت جو جسم کے اندر خون میں محسوس ہو۔ حال گرمی محبت کا نہ پوچھو ہم سے آگ رہتی ہے دماغوں میں تپش جانوں میں ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٥٦ ) ٤ - سوزش، تپک، جلن۔ "اس مرہم سے تو پھوڑے میں آگ پڑ گئی۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٤٩:١ ) ٥ - آتشک کا مرض، باؤ فرنگ۔ "اس کے حسن پر نہ جاؤ آگ میں پھک رہی ہے۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٤٤:١ ) ٦ - چرپراہٹ، جھال۔ "کبابوں نے تو زبان سے حلق تک آگ لگا دی۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٥٥:١ ) ٧ - سوز و گداز، لگن، عشق و محبت کا جوش۔ "چاہتے تھے کہ جو جوش اور آگ ان میں ہے وہی دوسروں میں بھی ہو۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٩٥ ) ٨ - مامتا، خون کا جوش "اب آگ میری کوک کی کیونکر یہ بجھے گی . بے طرح ہے بھڑکی۔" ( ١٩١٢ء، گل مغفرت، ١٠١ ) ٩ - شوق یا اشتیاق کی شدت۔ دوپٹا و گلنار دکھلا گئے نئے سرے سے پھر آگ برسا گئے ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٩٣ ) ١٠ - غصہ، جھونجھل۔ جو اتنا گرم ہو کر آج تو اے شعلہ خو آیا ہوا خواہوں نے تیرے آگ کچھ بھڑکائی ہووے گی ١١ - حسد، جلن، جلاپا۔ سوت کی آگ بجھے سوت کے بچوں سے جلی ان جہنم کے شراروں کی شرارت نہ گئی ( ١٨٧٩ء، جان صاحب، دیوان، ٢٢٥:٢ ) ١٢ - فتنہ و فساد، ہنگامہ "ابن رشد سے جن لوگوں کو حسد تھا . ان لوگوں نے اس آگ کو اور بھڑکایا۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٣٧:٥ ) ١٣ - عداوت، کینہ، دشمنی۔ "خدا معلوم تمیزاً کو سوکن کے بچوں کی ایسی کیا آگ پڑی تھی کہ ہر وقت ان کی بربادی پر کمربستہ تھیں۔" ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ١٤٨ ) ١٤ - بھوک پیاس کی شدت دل تفتگی نے مارا مجھ کو کہاں مژہ دے اک قطرہ آب تا میں اس آگ کو بجھاؤں ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٢١٠ ) ١٥ - خواہش نفسانی، شہوت، ہوس۔ "آشناؤں کو تو بلاتی ہے اور اپنا رنگ جماتی ہے، ترے جسم میں آگ بھری ہے۔" ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٩٨:٣ ) ١٦ - چمک دمک، روشنی۔ وہاں ہے آب رخ یاں آتش دل جدھر دیکھو ادھر ہے جلوہ گر آگ ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٨٣ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'اگنی' ہے پراکرت میں 'اگّی' ہندی میں 'اگن' ہے۔ اردو زبان میں آگ مستعمل ہے۔ تاریخی حقائق اور اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل ماخذ سنسکرت معلوم ہوتی ہے۔ اردو میں 'آگ' بطور اسم اور بطور صفت دونوں طرح سے مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غضبناک، خشمگیں۔ "برقنداز آگ ہو گیا اور اس نے دو تین قیدیوں کی امداد سے مجکو اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔" ( ١٩١٤ء، نمدر دہلی کے افسانے، ١٢٢:١ ) ١ - نار، آتش، شعلہ، عناصر اربعہ میں سے ایک عنصر کا نام۔ "آگ کی جستجو میں جانا اور پیغمبری لے کر پلٹنا موسٰی کے وقت سے اس وقت تک تو کبھی دیکھا نہیں گیا۔" ( ١٩٢٤ء، مکتوبات نیاز، ١٤١ ) ٤ - سوزش، تپک، جلن۔ "اس مرہم سے تو پھوڑے میں آگ پڑ گئی۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٤٩:١ ) ٥ - آتشک کا مرض، باؤ فرنگ۔ "اس کے حسن پر نہ جاؤ آگ میں پھک رہی ہے۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٤٤:١ ) ٦ - چرپراہٹ، جھال۔ "کبابوں نے تو زبان سے حلق تک آگ لگا دی۔" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٥٥:١ ) ٧ - سوز و گداز، لگن، عشق و محبت کا جوش۔ "چاہتے تھے کہ جو جوش اور آگ ان میں ہے وہی دوسروں میں بھی ہو۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ٩٥ ) ٨ - مامتا، خون کا جوش "اب آگ میری کوک کی کیونکر یہ بجھے گی . بے طرح ہے بھڑکی۔" ( ١٩١٢ء، گل مغفرت، ١٠١ ) ١٢ - فتنہ و فساد، ہنگامہ "ابن رشد سے جن لوگوں کو حسد تھا . ان لوگوں نے اس آگ کو اور بھڑکایا۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٣٧:٥ ) ١٣ - عداوت، کینہ، دشمنی۔ "خدا معلوم تمیزاً کو سوکن کے بچوں کی ایسی کیا آگ پڑی تھی کہ ہر وقت ان کی بربادی پر کمربستہ تھیں۔" ( ١٨٩٥ء، حیات صالحہ، ١٤٨ ) ١٥ - خواہش نفسانی، شہوت، ہوس۔ "آشناؤں کو تو بلاتی ہے اور اپنا رنگ جماتی ہے، ترے جسم میں آگ بھری ہے۔" ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٩٨:٣ )