آگا
معنی
١ - لشکر کا وہ حصہ جو سامنے ہو، فوج کا مہرا، مقدمۃ الجیش۔ "ہاتھیوں کی ہتھیائی سے آگا ہماری فوج کا پیچھے ہٹا۔" ( ١٩٠٦ء، مخزن، اکتوبر، ٤٥ ) ٢ - جسم کا اگلا یا سامنے کا رخ، ماتھا چہرہ اور سینہ وغیرہ۔ "یہ کیا بدلحاظی ہے دیکھو آگے سے دلائی سنبھالو" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٥٩:١ ) ٣ - اگاڑی، وہ رسی جو جانور کے گلے یا اگلے پاؤں میں ڈال کر میخوں سے باندھے ہیں۔ ویا باندھ ایسی جاپر اس کا آگا گزر جس جا نہ ہو ہرگز ہوا کا ( ١٧٩٥ء، فرسنامہ رنگین، ١٤ ) ٤ - وہ جگہ جو سامنے کے رخ ہو۔ "کسی کی طرف تھوکنا . آگا دیکھ کر نہ چلنا . ننگے بدن رہنا، ان باتوں سے (اماں جان) روکتی رہتی تھیں۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٣٠:٢ ) ٥ - جسم کے اگلے رخ کے اعضا جن کا چھپانا ضروری ہے، خصوصاً شرمگاہ (بیشتر پیچھا کے ساتھ مستعمل ہے)۔ "ننگے گلے، ننگے پیٹ، پرانے دھرانے دوپٹے سے آگا پیچھا ڈھانک لیتی تھی۔" ( ١٩٣٣ء، فراق، مضامین، ٥٤ ) ٦ - پوشاک کا وہ حصّہ جس سے جسم کا اگلا رخ ڈھکے۔ "درزی پہلے آگا پیچھا کلیاں چو بغلے آستینیں ہر ایک چیز کا اندازہ کر لیتا ہے تب قطع کرتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، الحقوق و الفرائض (تاریخ نثر اردو، ١٩٦:١) ) ٧ - قدیم وضع کی ایک پگڑی کا چھجا، پیشانی سے آگے بڑھا ہوا حصہ۔ رکھ آیا ہے اک ناند کا جیسے کہ کنارا تم دیکھیو زاہد کی ذرا پگڑی کا آگا ( ١٨٢٤ء، کلیات مصحفی، مجلس ترقی ادب، ٨٧ ) ٨ - مستقبل، آنے والا وقت "سرکار کا پیچھا بڑی بیگم سے اور بڑی بیگم کا آگا سرکار سے کٹ گیا اور علیحدگی مکمل ہوئی۔" ( ١٩٦٥ء، چار ناولٹ، ١٨ ) ١٠ - آغاز، جیسے : اس کام کا آگا بھاری ہے جہاں یہ قابو میں آیا سمجھو کہ بیڑا پار ہوا۔ (ماخوذ : پلیٹس) ١١ - حملہ۔ (پلیٹس)
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ'آگر' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'آگا' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٥٤ء میں "معراج نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لشکر کا وہ حصہ جو سامنے ہو، فوج کا مہرا، مقدمۃ الجیش۔ "ہاتھیوں کی ہتھیائی سے آگا ہماری فوج کا پیچھے ہٹا۔" ( ١٩٠٦ء، مخزن، اکتوبر، ٤٥ ) ٢ - جسم کا اگلا یا سامنے کا رخ، ماتھا چہرہ اور سینہ وغیرہ۔ "یہ کیا بدلحاظی ہے دیکھو آگے سے دلائی سنبھالو" ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ١٥٩:١ ) ٤ - وہ جگہ جو سامنے کے رخ ہو۔ "کسی کی طرف تھوکنا . آگا دیکھ کر نہ چلنا . ننگے بدن رہنا، ان باتوں سے (اماں جان) روکتی رہتی تھیں۔" ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٣٠:٢ ) ٥ - جسم کے اگلے رخ کے اعضا جن کا چھپانا ضروری ہے، خصوصاً شرمگاہ (بیشتر پیچھا کے ساتھ مستعمل ہے)۔ "ننگے گلے، ننگے پیٹ، پرانے دھرانے دوپٹے سے آگا پیچھا ڈھانک لیتی تھی۔" ( ١٩٣٣ء، فراق، مضامین، ٥٤ ) ٦ - پوشاک کا وہ حصّہ جس سے جسم کا اگلا رخ ڈھکے۔ "درزی پہلے آگا پیچھا کلیاں چو بغلے آستینیں ہر ایک چیز کا اندازہ کر لیتا ہے تب قطع کرتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، الحقوق و الفرائض (تاریخ نثر اردو، ١٩٦:١) ) ٨ - مستقبل، آنے والا وقت "سرکار کا پیچھا بڑی بیگم سے اور بڑی بیگم کا آگا سرکار سے کٹ گیا اور علیحدگی مکمل ہوئی۔" ( ١٩٦٥ء، چار ناولٹ، ١٨ )