آہستگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دھیمہ انداز۔ دھیما پن "مومن وہ ہے کہ اس میں آہستگی ہووے۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا (ترجمہ)، ٤٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'آہستہ' سے قاعدے کے مطابق 'ہ' گرا کر 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت سے 'آہستگی' بنا۔ اردو میں اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھیمہ انداز۔ دھیما پن "مومن وہ ہے کہ اس میں آہستگی ہووے۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا (ترجمہ)، ٤٤ )

اصل لفظ: آہستہ
جنس: مؤنث