آہٹ
معنی
١ - آنے جانے یا چلنے کی ہلکی سی آواز، خفیف سی چاپ (اکثر پاؤں یا کسی اور قرینے کے ساتھ مستعمل)۔ "حکم تھا کہ آنے والی عورت کی آہٹ سنتے ہی فوراً آنکھ سے اوجھل ہو جاؤں۔" ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، گرداب حیات، ٥٣ ) ٢ - بہت ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ، کھٹکا، پتا ہلنے کے برابر آواز۔ قبا اس نقرئی کھونٹی سے گرتی ہے مگر دیکھو اس انداز متانت سے کہ آہٹ تک نہیں ہوتی ( ١٩٠٢ء، جذبات نادر، ١٤٢:١ ) ٣ - [ مجازا ] علامت، ادنٰی آثار، کان میں بھنک پڑنے یا سن گن ملنے کی صورت حال۔ مسیح کے تمام پیرو خوف کی آہٹ معلوم ہوتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ ( ١٨٩٥ء، آیات بینات، ١٥:٢ )
اشتقاق
ہندی زبان میں مصدر 'آنا' اور 'ہٹنا' سے علامت مصادر گرا کر آ + ہٹ بنا۔ ہندی میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو زبان میں داخل ہو کر بھی اصلی حالت اور معنی میں ہی مستعمل ہے سب سے پہلے ١٧١٣ء میں فائز دہلوی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آنے جانے یا چلنے کی ہلکی سی آواز، خفیف سی چاپ (اکثر پاؤں یا کسی اور قرینے کے ساتھ مستعمل)۔ "حکم تھا کہ آنے والی عورت کی آہٹ سنتے ہی فوراً آنکھ سے اوجھل ہو جاؤں۔" ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، گرداب حیات، ٥٣ )