اباحت

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - جواز، اجازت، جائز کرنا یا ہونا۔ "محض اباحت استعمال کی بنا پر یہ حقوق حاصل ہیں"۔      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائیداد، ١٠٤ ) ٢ - شرعی اجازت، جواز یا علت، کسی چیز کا شریعت میں مباح، جائز یا حلال ہونا۔ "دف زنی اور لحن کو . اباحت کے تحت میں لانا عقل کے نزدیک غیر مستحسن ہے"۔      ( ١٩٣٣ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٨، ٣، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال المعتل اجوف واوی سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٥١ء کو "ترجمہ عجائب القصص" میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - جواز، اجازت، جائز کرنا یا ہونا۔ "محض اباحت استعمال کی بنا پر یہ حقوق حاصل ہیں"۔      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائیداد، ١٠٤ ) ٢ - شرعی اجازت، جواز یا علت، کسی چیز کا شریعت میں مباح، جائز یا حلال ہونا۔ "دف زنی اور لحن کو . اباحت کے تحت میں لانا عقل کے نزدیک غیر مستحسن ہے"۔      ( ١٩٣٣ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٨، ٣، ٥ )

اصل لفظ: بوح
جنس: مؤنث