اباحیہ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ فرقہ جو حلال و حرام کا قائل نہیں اور جس کا خیال ہے کہ انسان میں نہ گناہوں سے بچنے کی قدرت ہے نہ مامورات بجا لانے کی طاقت، دنیا میں کوئی کسی چیز کا مالک نہیں،سب لوگ اموال و ازواج میں شریک ہیں۔ "فرقہ اباحیہ، مزدکیہ اور متبعان اپی کورس صرف دنیاوی لذائذ کے قائل تھے"۔      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٢٣٨:٣ )

اشتقاق

'اباح' کے ساتھ 'ی' لاحقۂ نسبت اور 'ہ' لاحقۂ تانیث ہے۔ اردو میں بطور اسم مذکر استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ فرقہ جو حلال و حرام کا قائل نہیں اور جس کا خیال ہے کہ انسان میں نہ گناہوں سے بچنے کی قدرت ہے نہ مامورات بجا لانے کی طاقت، دنیا میں کوئی کسی چیز کا مالک نہیں،سب لوگ اموال و ازواج میں شریک ہیں۔ "فرقہ اباحیہ، مزدکیہ اور متبعان اپی کورس صرف دنیاوی لذائذ کے قائل تھے"۔      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٢٣٨:٣ )

اصل لفظ: بوح
جنس: مذکر