ابال

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - کھدبداکر اوپر اٹھنے کی کیفیت جو ابالنے یا ابلنے سے پیدا ہو، پک کر جوش کھانے کی صورت، کھدبدی (عموماً دودھ، پانی وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "جب ابال آ گیا اور رنگ کٹ گیا تو چھان کر عرق میں چاول نچوڑ کر ڈال دیے"۔      ( ١٨٢٨ء، مراۃ العروس، ٢٠٦ ) ٢ - کف، پھین۔ "وہ اس میں ابال اور جھاگ آتے ہیں، بس دیکھا کیجیے۔"      ( ١٩٣٥ء، خادم، ١٦٤ ) ٣ - [ مجازا ]  (کسی کیفیت یا جذبے وغیرہ کا) ابھار، جوش، ولولہ، شدت، وفور۔ "کبھی جی میں ایسا ابال آتا ہے کہ دیوار سے سر پٹک دوں۔"      ( ١٩٣٣ء، روحانی شادی، ٣٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے دو الفاظ 'اد' اور 'ولن' کے مرکب سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٧٧١ء، کو 'ہشت بہشت" میں استعمال کیا گیا۔

مثالیں

١ - کھدبداکر اوپر اٹھنے کی کیفیت جو ابالنے یا ابلنے سے پیدا ہو، پک کر جوش کھانے کی صورت، کھدبدی (عموماً دودھ، پانی وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "جب ابال آ گیا اور رنگ کٹ گیا تو چھان کر عرق میں چاول نچوڑ کر ڈال دیے"۔      ( ١٨٢٨ء، مراۃ العروس، ٢٠٦ ) ٢ - کف، پھین۔ "وہ اس میں ابال اور جھاگ آتے ہیں، بس دیکھا کیجیے۔"      ( ١٩٣٥ء، خادم، ١٦٤ ) ٣ - [ مجازا ]  (کسی کیفیت یا جذبے وغیرہ کا) ابھار، جوش، ولولہ، شدت، وفور۔ "کبھی جی میں ایسا ابال آتا ہے کہ دیوار سے سر پٹک دوں۔"      ( ١٩٣٣ء، روحانی شادی، ٣٧ )

جنس: مذکر