ابتدائیہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - کسی کتاب یا رسالے وغیرہ کے اصل مضمون سے پہلے کی تعارفی یا تمہیدی عبارت، دیباچہ، پیش لفظ وغیرہ، خبر وغیرہ کی سرخی۔ "جب میں نے ان کو اپنی کتاب . کا مسودہ دکھایا تو انھوں نے سراہا اور ایک مختصر سا ابتدائیہ بھی لکھا"۔      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٤٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ابتدا کے ساتھ 'ی' لاحقۂ نسبت اور 'ہ' لاحقۂ تانیث لگائی گئی ہے۔ اردو میں بطور اسم نکرہ مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - کسی کتاب یا رسالے وغیرہ کے اصل مضمون سے پہلے کی تعارفی یا تمہیدی عبارت، دیباچہ، پیش لفظ وغیرہ، خبر وغیرہ کی سرخی۔ "جب میں نے ان کو اپنی کتاب . کا مسودہ دکھایا تو انھوں نے سراہا اور ایک مختصر سا ابتدائیہ بھی لکھا"۔      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٤٧٦ )

اصل لفظ: بدء