ابجد

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - کسی زبان یا رسم الخط کے مفرد حروف، حروف تہجی، اصلاً ضینیقی رسم الخط ہجائی کے پہلے چار حروف، ا،ب،ج،د۔ "اے حضرت آپ عربی کی ابجد وضع ہونے کا زمانہ متعین کیجیے"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩:١١:١٣ ) ٢ - حروف تہجی کی وہ ترتیب جس میں حساب جمل کے لیے حروف کے اعداد مقرر ہیں۔ حروف مع اعداد یہ ہیں :ا(1)، ب(2)، ج(3)، د(4)، ہ(5)، و(6)، ز(7)، ح(8)، ط(9)، ی(10)، ک(20)، ل(30)، م(40)، ن(50)، س(60)، ع(70)، ف(80)، ص(90)، ق(100)، ر(200)، س(300)، ت(400)، ث(500)، خ(600)، ذ(700)، ض(800)، ظ(900)، غ(1000)نیز اس ترتیب کے مطابق بنائے گئے آٹھ کلموں میں سے پہلا کلمہ، یہ آٹھ کلمے حسب ذیل ہیں : اَبْجَد، ہَوَّز، حُطّی، کَلِمن، سَعْفَصْ، قَرْشَت، تَخَّذْ، ضَظَّغْ  جدائی اک الف کی دال ہے وحدت پہ شاہد ہے ملا معشوق سے اپنے مثال حرف ابجد ہے      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، واحجد علی شاہ، ٦٥٤ ) ٣ - آغاز، ابتدا، نیز کسی علم یا فن وغیرہ کے، مبادی، بنیادی یا ابتدائی اصول۔ "ہندوستان قدیم نے علوم کی ابجد عربوں ہی سے سیکھی۔"      ( ١٩٤٥ء ہندوؤں کی تعلیم مسلمانوں کے عہد میں، ١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ حروف تہجی کی ایک خاص ترتیب کے پہلے چار حروف ملا کر بطور مخفف استعمال کرتے ہیں یعنی اس سے مراد اس ترتیب کے سارے حروف ہوتے ہیں۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب" شاہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی زبان یا رسم الخط کے مفرد حروف، حروف تہجی، اصلاً ضینیقی رسم الخط ہجائی کے پہلے چار حروف، ا،ب،ج،د۔ "اے حضرت آپ عربی کی ابجد وضع ہونے کا زمانہ متعین کیجیے"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩:١١:١٣ ) ٣ - آغاز، ابتدا، نیز کسی علم یا فن وغیرہ کے، مبادی، بنیادی یا ابتدائی اصول۔ "ہندوستان قدیم نے علوم کی ابجد عربوں ہی سے سیکھی۔"      ( ١٩٤٥ء ہندوؤں کی تعلیم مسلمانوں کے عہد میں، ١١ )

اصل لفظ: ابجد
جنس: مؤنث