ابدالدہر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہستی کی انتہا یا آخری حد، قیامت۔ "خداوند تعالٰی حضور کو تا ابد الدہر سلامت و باکرامت رکھے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٧٧ ) ١ - رہتی دنیا تک کا، قیامت تک کا، ہمیشگی والا۔  یہ چشمۂ فیض ابدالدہر عیاں ہے اک اس کی زکواۃ آب حیات دو جہاں ہے      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٥٠:٢ ) ١ - ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔  منت آب بقا خضر نمط میں نہ کروں زندگی عشق نے بخشی ابدالدہر مجھے      ( ١٩٢٦ء، عروس الاذکار، نصیرالدین بخش، ١٦٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ دو الفاظ 'ابد' اور دہر سے مرکب ہے۔ 'ال' سے دونوں الفاظ کو ملایا گیا ہے۔

مثالیں

١ - ہستی کی انتہا یا آخری حد، قیامت۔ "خداوند تعالٰی حضور کو تا ابد الدہر سلامت و باکرامت رکھے۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٧٧ )

جنس: مذکر