ابدی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - ابد سے منسوب، جس کی مستقبل میں حد اور انتہا نہ ہو، غیر فانی۔      "دانش کے وسیلے سے عمر ابدی کو پہنچتے ہیں"     رجوع کریں:   ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ٤ ) ٢ - مسلمانوں کا ایک فرقہ جو کائنات کی ابدیت کا قائل ہے۔ "اسلام میں نئی نئی شاخیں پھوٹنی شروع ہوئیں، رافضی، خارجی، ابدی . گروہ ہو گئے۔"      ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت دہلوی، سوانح عمری امام اعظم )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اَبَد'کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی نسبت' لگائی گئی ہے۔ ١٦٧٢ء کو عبداللہ قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ابد سے منسوب، جس کی مستقبل میں حد اور انتہا نہ ہو، غیر فانی۔      "دانش کے وسیلے سے عمر ابدی کو پہنچتے ہیں"     رجوع کریں:   ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ٤ ) ٢ - مسلمانوں کا ایک فرقہ جو کائنات کی ابدیت کا قائل ہے۔ "اسلام میں نئی نئی شاخیں پھوٹنی شروع ہوئیں، رافضی، خارجی، ابدی . گروہ ہو گئے۔"      ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت دہلوی، سوانح عمری امام اعظم )

اصل لفظ: ابد