ابدیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بقائے دوام، ہمیشگی "اس کی ازلیت اسم اول سے ہے اور اس کی ابدیت اسم آخر سے ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، مقدمہ فصوص الحکم (ترجمہ) ٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'ابد' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی نسبت' لگانے کے بعد 'ۃ' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٨٨٨ء کو "مقدمہ فصوص الحکم(ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بقائے دوام، ہمیشگی "اس کی ازلیت اسم اول سے ہے اور اس کی ابدیت اسم آخر سے ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، مقدمہ فصوص الحکم (ترجمہ) ٢٠ )

اصل لفظ: ابد
جنس: مؤنث