ابر
معنی
١ - بادل، گھٹا، بدلی۔ "ایک ابر کا ٹکڑا آیا اور دائی کو گھیر لیا"۔ ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٤٠ ) ٢ - ہلکی نیلگوں بادخانی رنگ کی چمکیلی دھوپ چھاؤں یا لہریں جو تلوار، خنجر وغیرہ کے پھل، ڈھال کی سطح، بندوق کی نال یا دوسرے فولادی اسلحہ پر صیقل سے پیدا ہوں، جوہر۔ جس طرح پتا نکل آتا ہے شاخ سبز سے ابر اٹھ کر تیغ قاتل سے سپر ہونے لگا ( ١٨٥٣ء، دفتر فصاحت، وزیر، ٤٩ ) ٣ - چمکیلا لہریا جو رنگ یاروغن سے کپڑے یا کاغذ پر ڈالا جائے، جیسا کتاب کی جلد کی ابری میں ہوتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ : 871) ٤ - [ تصوف ] وہ حجاب جو شہود کےحصول میں حائل، طالبین کے لیے لطف انگیز اور بنابریں محرومی تجلی حق کا باعث ہو۔ (مصباح التعرف : 22)
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں مستعمل ہے۔ قدیم زمانے میں 'اَبَر' استعمال ہوتا تھا۔ سنسکرت اور اوستائی زبان میں اس کے مترادف بالترتیب 'اَبْھر' اور'اَوَرْہ' مستعمل ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ان زبانوں میں سے کسی ایک سے اردو میں داخل ہوا ہو۔ لیکن اغلب امکان یہی ہے کہ فارسی سے آیا ہو گا۔ ١٥٠٣ء "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بادل، گھٹا، بدلی۔ "ایک ابر کا ٹکڑا آیا اور دائی کو گھیر لیا"۔ ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ٢٤٠ )