ابرتر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بھیگی بھیگی گھٹا جس کے برسنے کی امید ہو، برسنے والا بادل۔  آتے ہیں یہ مناظر دلکش نظر کہاں ساون کی اب کے جھڑیاں ہیں اے ابرتر کہاں      ( ١٩٢٩ء، مطلع الانوار، ٢٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکب توصیفی ہے، 'ابر' کے ساتھ اسم صفت 'تَر' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧٩٠ء کو سب سے پہلے قدرت دہلوی نے استعمال کیا۔

جنس: مذکر