ابرقبلہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مغرب کی جانب سے اٹھنے والا بادل جو عموماً (ان خطوں میں جوکہ معظمہ کے مشرق میں واقع ہیں) برستا ہے۔  مائل یہ ابر قبلہ نہ برسا تو آج سے رندوں کے ہم بھی قبلۂ حاجات ہی نہیں      ( ١٩٣١ء، حائل دہلوی، انتخاب دیوان اول، ١٤ )

اشتقاق

مرکب اضافی ہے۔ اَبْر' کے ساتھ عربی زبان کا لفظ 'قِبْلہ' لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء، کو میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر