ابرو
قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - آنکھ کے اوپر کی محراب نما ہڈی پر دو طرفہ بالوں کی لکیر، بھوں، بھویں۔ کچھ اشاروں ہی سے کہہ دے تری چتون کے نثار کس پہ تولے ہوئے تلوار ہے ابرو تیرا ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٥ ) ٢ - [ تصوف ] وہ تجلی یا الہام غیبی یا کلام کی صورت میں سالک کے دل پر وارد ہوتی ہے۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 3)
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ پہلوی میں "بُرُوْک' اوستائی زبان میں 'بُرُوَت' اور سنسکرت میں 'بُھرُو' مستعمل ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ اردو میں ان زبانوں میں سے داخل ہوا ہو یا پھر اوستائی یا پہلوی سے فارسی زبان کے راستے سے اردو میں آیا ہو۔ البتہ قرین قیاس فارسی ہی ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔