ابلاغ

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - (بات، پیغام، خیالات، عقاید یا علوم وغیرہ) دوسرے تک بھیجنے یا پہنچانے کا عمل (تحریر یا علامات و اشارات کے ذریعے)؛ تبلیغ۔ "انھوں نے الزام لگایا کہ ابلاغ کے تمام ذرائع حکومت کے قبضے میں ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء روزنامہ جنگ، کراچی، ٦،٧:٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٨٠ء کو سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (بات، پیغام، خیالات، عقاید یا علوم وغیرہ) دوسرے تک بھیجنے یا پہنچانے کا عمل (تحریر یا علامات و اشارات کے ذریعے)؛ تبلیغ۔ "انھوں نے الزام لگایا کہ ابلاغ کے تمام ذرائع حکومت کے قبضے میں ہیں۔"      ( ١٩٧٣ء روزنامہ جنگ، کراچی، ٦،٧:٣٧ )

اصل لفظ: بلغ
جنس: مذکر