ابٹن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (نرمی، نکھار اور خوشبو کے لیے) جسم پر ملنے کا ایک مرکب جو ہلدی، کھلی، ناگرمو تھا۔ بالچھڑ اور بھنے جو کے آٹے وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔ "وہ دن میں دو تین مرتبہ اسے ابٹن ملتی"۔      ( ١٩٣٣ء، میر کے بہترین افسانے، پریم چند، ٥٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے مرکب لفظ 'اُدْ وَرِت' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں ١٧٩٧ء کو "عشق نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (نرمی، نکھار اور خوشبو کے لیے) جسم پر ملنے کا ایک مرکب جو ہلدی، کھلی، ناگرمو تھا۔ بالچھڑ اور بھنے جو کے آٹے وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔ "وہ دن میں دو تین مرتبہ اسے ابٹن ملتی"۔      ( ١٩٣٣ء، میر کے بہترین افسانے، پریم چند، ٥٤ )

جنس: مذکر