ابکائی
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - کھایا پیا حلق کی طرف لوٹنے کی تحریک، قے آنے کی حالت، متلی، مالش۔ "کبھی ہچکی آتی ہے کبھی ابکائی" ( ١٩٣٤ء اودھ پنچ، لکھنؤ، ٦،٣:١٩ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے دو الفاظ 'اد' اور 'واہک' سے ماخوذ، لفظ 'ابکا' کے ساتھ لاحقۂ مصدر 'نا' لگا کر 'ابکانا' مصدر بنایا گیا جس سے یہ حاصل مصدر ہے۔ ١٨٦٤ء کو "گلشن جاں فزا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھایا پیا حلق کی طرف لوٹنے کی تحریک، قے آنے کی حالت، متلی، مالش۔ "کبھی ہچکی آتی ہے کبھی ابکائی" ( ١٩٣٤ء اودھ پنچ، لکھنؤ، ٦،٣:١٩ )
اصل لفظ: اُبَکْنا
جنس: مؤنث