ابھار
معنی
١ - اٹھان یا اونچا پن جو کسی چیز کے پھولنے یا ابھرنے سے ظاہر ہو، سطح کا ابھرا ہوا حصہ۔ "گڑھے بھر دیے جاتے ہیں اور ابھار کاٹ دیے جاتے ہیں"۔ ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام، ٨٩ ) ٢ - نمو یا شباب کا زور، بالیدگی۔ قابل دید ہے اشجار کا انداز بہار عشق پیچے کا وہی پیچ اور وہ غنچوں کا ابھار ( ١٩٣٦ء، مراثی محب، ٩٢ ) ٣ - امنگ، موج، ولولہ "بڑھنے کے لیے اپنے دل میں کوئی ابھار نہیں پاتا تھا"۔ ( ١٩٥٩ء، پردیسی کے خطوط، ١٠١ ) ٤ - افزائش، بڑھوتری، فروغ۔ "تہذیب یافتہ ہونے کے معنی ہیں ان قوتوں کی ترتیب اور ابھار"۔ ( ١٩٣٢ء، روح تہذیب، ٤٦ ) ٦ - [ کنایۃ ] عورت کے پستان چھپتا نہیں چھپانے سے عالم ابھار کا آنچل کی تہہ سے دیکھ نمودار کیا ہوا ( ١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ٤٨ )
اشتقاق
پراکرت میں 'اُبھَّر، اور سنسکرت میں 'ادھبھِر' اس لفظ کے مترادف استعمال ہوتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی بھی ایک زبان سے اردو میں آیا ہو سکتا ہے۔ اردو میں ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اٹھان یا اونچا پن جو کسی چیز کے پھولنے یا ابھرنے سے ظاہر ہو، سطح کا ابھرا ہوا حصہ۔ "گڑھے بھر دیے جاتے ہیں اور ابھار کاٹ دیے جاتے ہیں"۔ ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام، ٨٩ ) ٣ - امنگ، موج، ولولہ "بڑھنے کے لیے اپنے دل میں کوئی ابھار نہیں پاتا تھا"۔ ( ١٩٥٩ء، پردیسی کے خطوط، ١٠١ ) ٤ - افزائش، بڑھوتری، فروغ۔ "تہذیب یافتہ ہونے کے معنی ہیں ان قوتوں کی ترتیب اور ابھار"۔ ( ١٩٣٢ء، روح تہذیب، ٤٦ )