ابھی

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - فی الحال، سردست۔ "رائے صاحب نے سخت تاکید کر دی ہے کہ وہ اپنی بہن کو ابھی کچھ دنوں تک خط نہ لکھا کرے"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ١٧٨ ) ٢ - حال میں، اس وقت۔  حقی طلوع صبح تمنا ابھی کہاں آنکھیں تو کھولیے ہے اندھیرا بہت ابھی      ( ١٩٥٨ء، تار پیراہن، ٢٥١ ) ٣ - اسی آن، ترت، فوراً۔ "اگر اپنا بھلا چاہتا ہے تو الٹا واپس چلا جا، نہیں تو ابھی تکہ بوٹی کر لیتے ہیں۔"      ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ٢٤ ) ٤ - ذرا دیر پہلے، ماضی قریب میں۔  سرھانے میر کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے    ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٤٩ ) ٥ - اس وقت (جبکہ)، جس وقت، ماضی بعید میں۔  عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے    ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ١١٥ ) ٦ - ذرا دیر بعد، ذرا دیر میں۔ "شیخ بادشاہِ عصر کی ملازمت کو گئے ہیں، ابھی آتے ہیں۔"      ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ١٢٣ ) ٧ - ابھی سے اتنی جلدی۔  کیا غرض کیوں وہ سنے وصل کا پیغام ابھی ٹھوکریں کھائے گا برسوں دل ناکام ابھی      ( ١٩١٩ء، در شہوار، بیخود، ١٠١ ) ٨ - اس وقت سے۔  مرغ زرین فلک انڈے سے بھی نکلا نہیں یہ شب فرقت ہے اے ناداں ابھی ہے دور صبح      ( ١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ٥٢:٢ ) ٩ - ہنوز، اب تک، اس وقت تک۔  مری نوا سے گریبان لالہ چاک ہوا نسیم صبح چمن کی تلاش میں ہے ابھی      ( ١٩٣٦ء، ضرب کلیم، ١٤٤ ) ١٠ - اس کے بعد، آئندہ بھی۔  غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا      ( ١٩٤٦ء، طیور آوارہ ٢٧ ) ١١ - متقابل تکرار کی صورت میں پہلا ابھی۔ 'دم بھر پہلے' کے معنی میں اور دوسرا 'اس کے فوراً بعد' کے معنی میں مستعمل (ذرا سی دیر میں)، دیکھتے ہی دیکھتے، بلا وقفہ، آناً فاناً وغیرہ۔ "ابھی ایک مشرق کا واقعہ بیان ہو رہا تھا، ابھی مغرب کا ایک دوسرا واقعہ بیان ہونے لگا۔"      ( ١٨٧٤ء، مکاتیب حالی، ٢٠ ) ١٢ - اس مقام پر، اس موقع پر۔ "ابھی دوسری ہوتی تو آسمان میں تھگلی لگاتی۔"      ( ١٨٩٣ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ٣٦١ ) ١٣ - کسی وقت، کبھی۔ اگر ابھی دور بار شیطان کے کان بہرے ایک عضو میں فتور ہو تو چین و آرام دل سے دور ہو"۔      ( ١٨٧٣ء، تہذیب النسا، ٨ ) ١٤ - تاکید کلام کے لیے۔  کہرام ہوا حشر بپا ہو گیا بابا ہے ہے ابھی اک دم میں یہ کیا ہو گیا بابا      ( ١٩١٢ء، شمیم، بیاض (ق)، ١٧ )

اشتقاق

'اب' کے ساتھ سنسکرت زبان سے 'ہی' کلمہ تاکید لگایا گیا ہے کثرت استعمال سے 'ہی' 'اب' کے ساتھ ہی مدغم ہو گیا۔ قدماء اس کو 'ابی' اور 'ابھوں' بھی استعمال کرتے رہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فی الحال، سردست۔ "رائے صاحب نے سخت تاکید کر دی ہے کہ وہ اپنی بہن کو ابھی کچھ دنوں تک خط نہ لکھا کرے"      ( ١٩٤٤ء، افسانچے، ١٧٨ ) ٣ - اسی آن، ترت، فوراً۔ "اگر اپنا بھلا چاہتا ہے تو الٹا واپس چلا جا، نہیں تو ابھی تکہ بوٹی کر لیتے ہیں۔"      ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ٢٤ ) ٦ - ذرا دیر بعد، ذرا دیر میں۔ "شیخ بادشاہِ عصر کی ملازمت کو گئے ہیں، ابھی آتے ہیں۔"      ( ١٨٠٢ء، خرد افروز، ١٢٣ ) ١١ - متقابل تکرار کی صورت میں پہلا ابھی۔ 'دم بھر پہلے' کے معنی میں اور دوسرا 'اس کے فوراً بعد' کے معنی میں مستعمل (ذرا سی دیر میں)، دیکھتے ہی دیکھتے، بلا وقفہ، آناً فاناً وغیرہ۔ "ابھی ایک مشرق کا واقعہ بیان ہو رہا تھا، ابھی مغرب کا ایک دوسرا واقعہ بیان ہونے لگا۔"      ( ١٨٧٤ء، مکاتیب حالی، ٢٠ ) ١٢ - اس مقام پر، اس موقع پر۔ "ابھی دوسری ہوتی تو آسمان میں تھگلی لگاتی۔"      ( ١٨٩٣ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ٣٦١ ) ١٣ - کسی وقت، کبھی۔ اگر ابھی دور بار شیطان کے کان بہرے ایک عضو میں فتور ہو تو چین و آرام دل سے دور ہو"۔      ( ١٨٧٣ء، تہذیب النسا، ٨ )

اصل لفظ: اَب