اتار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کمتر، گھٹیا۔ "گو کہ سب سنگاروں میں وہ اتار ہے پر اس سے چوٹی کا سنگار ہے۔"      ( ١٨٠٢ء، نثر بے نظیر، ٦٤ ) ٢ - لڑاکا، بد زبان، بری عورت "وہ تو بڑی اتار ہے اس کے منہ کون لگے"۔      ( ١٨٩٣ء، فرہنگ اآصفیہ، ١٠٢:١ ) ١ - اترنے یا اوپر سے نیچے آنے کا عمل۔  دل چڑھا آسان کوہ عشق پر اب اتار اس کا ہے مشکل کیا کریں      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٦٢ ) ٢ - نشیب، ڈھلان۔ "آہستہ آہستہ اتار سے اترنا شروع کیا"۔    ( ١٩٢٢ء، عصائے پیری، ١٥٣ ) ٣ - دریا کے بہاؤ کا رخ۔ "پس اگر کہا جائے کہ بغداد مقدم ہے بصرے پر، تو یہ اس نسبت سے کہ قصد کرنے والا (مسافر) اتار کی جانب روانہ ہو۔"    ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ١٤٠ ) ٤ - ازالہ، دفیعہ  کس قدر تیز تھا ڈیفنس بخار جیل سے پیشتر ہوا نہ اتار      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٩١ ) ٥ - بڑھنے گھٹنے والی کیفیت کا انحطاط، گھٹاؤ یا کمی۔  لے آئیں ہوش میں اب مست بادہ پندار خمار بننے کو ہے نشۂ خودی کا اتار      ( ١٩٤٢ء، خمسۂ متحیرہ، ٥٢:٤ ) ٦ - (دریا کا) جزر، بھاٹا۔ "ندیوں کے چڑھاؤ، اتار . سے محفوظ رہنے کے لیے . ہندوؤں نے مصنوعی ذرائع آب پاشی کی طرف توجہ کی۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٣ ) ٧ - (کسی چیز یا کیفیت کے اثر کو) زایل کرنے والا عمل۔  دے دیا تھا غشی کا اس کو اتار ایک گھنٹے میں وہ ہوئی ہوشیار    ( ١٩٣٦ء، جگ بیتی، کیفی، ١٠ ) ٨ - جادو یا آسیب کا رد، توڑ یا کاٹ۔ "اس کے سر پہ جو بھوت چڑھا ہوا ہے اس کا اتار میرے پاس ہے۔"    ( ١٩٢٨ء، گوشۂ عافیت، ٦٨:١ ) ١٠ - ندی کا پایاب حصہ یا گھاٹ جہاں سے عبور کریں۔ (نوراللغات، 225:1؛ اردو قانونی ڈکشنری، 7) ١١ - دریا کے پار جانا (فرہنگ اثر) ١٢ - مثنٰی، نقل۔ (پلیٹس، نوراللغات، 1، 252) ١٣ - [ تعمیرات ]  کنویں کے گولے کا تہہ تک جانا، کنویں کی گلائی۔ "اگر کنویں کے . اتار میں کوئی رکاوٹ ہو جائے تو اس صورت میں بالعموم غواصوں کو کام پر لاتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، رسالہ دڑکی، چنائی، ١٢٢ ) ١٤ - [ زر بافی ]  تارکشی کا آخری ہاتھ یعنی تار کی تیاری کا عمل جس پر تار کی کھنچائی ختم ہوتی ہے۔(اصطلاحات پیشہ وراں، 182:2) ١٥ - [ بنائی ]  دری کے کرگھے کا پچھلا بانس جو بننے والے سے دور ہوتا ہے۔ (شبد ساگر) ١٦ - [ موسیقی ]  گانے میں اصول کے مطابق سُر نیچا کرنے کا عمل، بم کے بعد زیر۔  وہ چھوٹ اور سم کی نکہت پر بہار وہ کوؤں کے بادی سروں کا اتار      ( ١٨٩٠ء، کتاب مبین، ١٥٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'اُدتَرَ' سے ماخوذ ہے جوکہ 'اترنا' کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔ 'اتار' مصدر 'اترنا' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں ١٥٠٣ء، کو "نوسرہار" میں بحوالہ "اردو ادب، علیگڑھ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کمتر، گھٹیا۔ "گو کہ سب سنگاروں میں وہ اتار ہے پر اس سے چوٹی کا سنگار ہے۔"      ( ١٨٠٢ء، نثر بے نظیر، ٦٤ ) ٢ - لڑاکا، بد زبان، بری عورت "وہ تو بڑی اتار ہے اس کے منہ کون لگے"۔      ( ١٨٩٣ء، فرہنگ اآصفیہ، ١٠٢:١ ) ٢ - نشیب، ڈھلان۔ "آہستہ آہستہ اتار سے اترنا شروع کیا"۔    ( ١٩٢٢ء، عصائے پیری، ١٥٣ ) ٣ - دریا کے بہاؤ کا رخ۔ "پس اگر کہا جائے کہ بغداد مقدم ہے بصرے پر، تو یہ اس نسبت سے کہ قصد کرنے والا (مسافر) اتار کی جانب روانہ ہو۔"    ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ١٤٠ ) ٦ - (دریا کا) جزر، بھاٹا۔ "ندیوں کے چڑھاؤ، اتار . سے محفوظ رہنے کے لیے . ہندوؤں نے مصنوعی ذرائع آب پاشی کی طرف توجہ کی۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٣ ) ٨ - جادو یا آسیب کا رد، توڑ یا کاٹ۔ "اس کے سر پہ جو بھوت چڑھا ہوا ہے اس کا اتار میرے پاس ہے۔"    ( ١٩٢٨ء، گوشۂ عافیت، ٦٨:١ ) ١٣ - [ تعمیرات ]  کنویں کے گولے کا تہہ تک جانا، کنویں کی گلائی۔ "اگر کنویں کے . اتار میں کوئی رکاوٹ ہو جائے تو اس صورت میں بالعموم غواصوں کو کام پر لاتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، رسالہ دڑکی، چنائی، ١٢٢ )

اصل لفظ: اُتَر