اتباع

قسم کلام: اسم حاصل مصدر ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - اطاعت، متابعت، پیروی، تقلید۔ "رسول مقبول کی اتباع و اطاعت کو . مقدم جان کر سب کام دین و دنیا کے شریعت نبوی کے موافق کرتے رہیں۔"      آنے والی ہے وہ ساعت جب کریں گے اتباع کابل و ہندو عراق و مصر و شام انگورہ کا      ( ١٨٣٠ء، تقویۃ الایمان، ٤٦٧ )( ١٩٣١ء، بہارستان، ٣٥٧ ) ٢ - پابندی "ان کا روزہ اتباع رسم کے طور پر ہوتا ہے۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٩٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال المعتل واوی سے مصدر ہے، اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - اطاعت، متابعت، پیروی، تقلید۔ "رسول مقبول کی اتباع و اطاعت کو . مقدم جان کر سب کام دین و دنیا کے شریعت نبوی کے موافق کرتے رہیں۔"      آنے والی ہے وہ ساعت جب کریں گے اتباع کابل و ہندو عراق و مصر و شام انگورہ کا      ( ١٨٣٠ء، تقویۃ الایمان، ٤٦٧ )( ١٩٣١ء، بہارستان، ٣٥٧ ) ٢ - پابندی "ان کا روزہ اتباع رسم کے طور پر ہوتا ہے۔"      ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ٩٥ )

اصل لفظ: تبع