اترن
قسم کلام: اسم حاصل مصدر ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - اتاری ہوئی یا پھٹی پرانی چیز۔ ہاتھ آئے اس کا اترن بھی اگر خورشید کو خلعتِ نور اپنا بدلے یار کی پوشاک سے"ان کو لباس کے لیے بھیڑ کی اترن اون درکار ہوتی ہے۔" ( ١٩١٤ء، سی پارہ دل، ٤٢ )
اشتقاق
'اترنا' مصدر سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اتاری ہوئی یا پھٹی پرانی چیز۔ ہاتھ آئے اس کا اترن بھی اگر خورشید کو خلعتِ نور اپنا بدلے یار کی پوشاک سے"ان کو لباس کے لیے بھیڑ کی اترن اون درکار ہوتی ہے۔" ( ١٩١٤ء، سی پارہ دل، ٤٢ )
اصل لفظ: اُتَرْنا