اتفاقیہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - [ منطق ]  قضیہ شرطیہ، جس میں مقدم و تالی کے درمیان لزوم نہ ہو بلکہ بغیر سبب دونوں کے یک جا ہو جانے کی وجہ سے حکم لگایا گیا ہو، جیسے انسان بولتا ہے تو گھوڑا ہنہناتا ہے۔ "جب متصلہ کے مقدم و تالی میں کوئی علاقہ باعث اتصال ہو گا تو متصلہ لزومیہ ہے ورنہ اتفاقیہ۔"      ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمہ، ٤٦ ) ١ - اتفاقاً، اچانک۔ "فتح علی شاہ، شاہ ایران نے بھی اس واقعہ کا اتفاقیہ واقع ہونا تسلیم کیا۔"      ( ١٨٩٦ء، سیرت فریدیہ، ١٣ ) ١ - جو اتفاق سے یا اچانک ہو، بے سان و گمان۔ "آگ کا تمام گھر پھونک تماشا، اتفاقیہ حادثہ، ہو کر رہ گیا۔"      ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ٣٣٠ )

اشتقاق

وفق  اِتِّفاقی  اِتِّفاقِیَّہ

مثالیں

١ - [ منطق ]  قضیہ شرطیہ، جس میں مقدم و تالی کے درمیان لزوم نہ ہو بلکہ بغیر سبب دونوں کے یک جا ہو جانے کی وجہ سے حکم لگایا گیا ہو، جیسے انسان بولتا ہے تو گھوڑا ہنہناتا ہے۔ "جب متصلہ کے مقدم و تالی میں کوئی علاقہ باعث اتصال ہو گا تو متصلہ لزومیہ ہے ورنہ اتفاقیہ۔"      ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمہ، ٤٦ ) ١ - اتفاقاً، اچانک۔ "فتح علی شاہ، شاہ ایران نے بھی اس واقعہ کا اتفاقیہ واقع ہونا تسلیم کیا۔"      ( ١٨٩٦ء، سیرت فریدیہ، ١٣ ) ١ - جو اتفاق سے یا اچانک ہو، بے سان و گمان۔ "آگ کا تمام گھر پھونک تماشا، اتفاقیہ حادثہ، ہو کر رہ گیا۔"      ( ١٩٣٢ء، اخوان الشیاطین، ٣٣٠ )

اصل لفظ: وفق
جنس: مذکر