اتقا
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - ممنوعات و محرمات شرع سے اجتناب، زہد، پرہیزگاری، خدا کا خوف۔ "اتقا اور پرہیزگاری میں کبھی تزلزل واقع نہ ہوا۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٦٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب "افتعال المعتل واوی" سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے، ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ممنوعات و محرمات شرع سے اجتناب، زہد، پرہیزگاری، خدا کا خوف۔ "اتقا اور پرہیزگاری میں کبھی تزلزل واقع نہ ہوا۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٦٤ )
اصل لفظ: وقی
جنس: مذکر