اتقان

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - استحکام، استواری، مہارت۔ "جس وقت وہ کسی کام کو نہایت اتقان و استحکام کے ساتھ تیار کر کے فارغ و مطمئن ہوتا تو طبیعت فوراً حملہ کر کے اس کو درہم برہم کر دیتی تھی۔"      ( ١٩٠٤ء، المدینہ والاسلام، ١٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افعال' سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٩٠٤ء کو "المدینہ والاسلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - استحکام، استواری، مہارت۔ "جس وقت وہ کسی کام کو نہایت اتقان و استحکام کے ساتھ تیار کر کے فارغ و مطمئن ہوتا تو طبیعت فوراً حملہ کر کے اس کو درہم برہم کر دیتی تھی۔"      ( ١٩٠٤ء، المدینہ والاسلام، ١٧ )

اصل لفظ: تقن
جنس: مذکر