اتلاف
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - ضائع کرنا، کھونا، نقصان، بربادی۔ "ہمارے نزدیک توانائی کا اتلاف مطلق نہیں ہوتا۔" ( ١٩٤٥ء، طبیعات کی داستان، ٣٤٧:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے، ثلاثی مزید فیہ کے باب "افعال" سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٥٥ء کو مفتون کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔"
مثالیں
١ - ضائع کرنا، کھونا، نقصان، بربادی۔ "ہمارے نزدیک توانائی کا اتلاف مطلق نہیں ہوتا۔" ( ١٩٤٥ء، طبیعات کی داستان، ٣٤٧:١ )
اصل لفظ: تلف
جنس: مذکر