اجتناب

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - (کسی شخص یا شے سے) پرہیز، کنارہ کشی، احتراز، پہلو بچانا، بچنا یا دور رہنا۔  وہاں تو ہر ادا میں مصلحت ہے اور ہم کو ہے سرور التفات کا، ملال اجتناب کا      ( ١٩٢٥ء، نقوش مانی، ١١٠ ) ٢ - [ مجازا ]  محرمات شرعیہ سے دوری، تقوٰی و پارسائی۔  اس اجتناب کا زاہد پتا لگے اس وقت جو اس نگاہ سے دم بھر تری نگاہ ملے      ( ١٩٢٧ء، شاد، مے خانہ الہام، ٣٠٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج (مثنویات)" میں مستعمل ہے۔

اصل لفظ: جنب
جنس: مذکر