اجر

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - صلہ، انعام، بدلہ، پھل، اجرت  چوبھے پاؤں میں مومن کے کانٹا اگر گنہ اک جھڑے اک نیکی اجر      ( ١٧٦٩ء، آخر گشت، ٨٨ ) ٢ - ثواب، جزائے خیر۔ "صبر اگر نیت کر کے کیا جائے تو بڑا اجر دلواتا ہے۔"      ( ١٩١٥ء، سی پارہ دل، ١٩٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اصل تلفظ 'اجر' ہے اور قدما نے 'اَجَر' بھی استعمال کیا۔ سب سے پہلے "سب رس" میں ١٦٣٥ء کو مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ثواب، جزائے خیر۔ "صبر اگر نیت کر کے کیا جائے تو بڑا اجر دلواتا ہے۔"      ( ١٩١٥ء، سی پارہ دل، ١٩٧ )

اصل لفظ: اجر
جنس: مذکر