اجوائن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - زیرے سے مشابہ مگر اس سے چھوٹا ایک بیج، رنگ بھورا سیاہی مائل، بوتیز انیسون سے مشابہ جو دوا میں، نیز ہاضمے کے لیے اروی وغیرہ کے سالن میں ڈالتے ہیں، اس کا پودا اور پھول سونف کے پودے اور شگوفے کے مانند ہوتا ہے۔ "داروغہ جی خضاب جلد تیار کرو اور اس میں کچھ اجوائن ڈال دینا کہ آج بہت سردی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، خلیل خان فاختہ، ٢٠:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں 'یوانی' اس کے مترادف لفظ ہے جبکہ لاطینی میں اسے Linguisticum ajowan کہتے ہیں اگرچہ لاطینی زبان میں رکن ثانی(ajowan) زیادہ قریب ہے۔ اردو میں مستعمل لفظ کے لیکن اس کے باوجود اردو زبان کے پیچھے لاطینی کا عمل دخل کم ہی نظر آتا ہے بنسبت سنسکرت کے۔ لہٰذا امکان یہی ہے کہ سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ ١٥٩٣ء کو "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زیرے سے مشابہ مگر اس سے چھوٹا ایک بیج، رنگ بھورا سیاہی مائل، بوتیز انیسون سے مشابہ جو دوا میں، نیز ہاضمے کے لیے اروی وغیرہ کے سالن میں ڈالتے ہیں، اس کا پودا اور پھول سونف کے پودے اور شگوفے کے مانند ہوتا ہے۔ "داروغہ جی خضاب جلد تیار کرو اور اس میں کچھ اجوائن ڈال دینا کہ آج بہت سردی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، خلیل خان فاختہ، ٢٠:١ )

جنس: مؤنث