اجڑنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - ٹوٹا پھوٹا ہونا، خراب یا خستہ ہونا، ویران، خالی یا غیر آباد ہونا۔  گھر کا نام خاک لوں بن کے یہ بگڑ چکا اس پہ اوس پڑ چکی، مٹ چکا، اجڑ چکا      ( ١٩٢٥ء، عالم خیال، ٨ ) ٢ - آوارہ یا بے گھرا ہونا۔  چین کعبے میں بھی دم بھر نہ میسر ہو گا ایسے اجڑے ہیں کہ تربت میں بس اب گھر ہو گا      ( ١٨٩٤ء، سجاد رائے پوری (ق)، ٩ ) ٤ - تباہ حال، پریشان روزگار ہونا۔  پڑے موت کو موت اجڑ جائے وہ مرے بدلے مٹی میں گڑ جائے وہ      ( ١٩١٠ء، قاسم و زہرہ، ٨٢ ) ٥ - غائب ہونا، آنکھوں سے اوجھل ہونا۔ "سب کی سب کہاں اجڑ گئیں کوئی دکھائی نہیں دیتی۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٣٧٣:١ )

اشتقاق

ہندی زبان سے مصدر 'اجاڑنا' سے فعل لازم ہے۔ اردو میں ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٥ - غائب ہونا، آنکھوں سے اوجھل ہونا۔ "سب کی سب کہاں اجڑ گئیں کوئی دکھائی نہیں دیتی۔"      ( ١٩٢٩ء، نوراللغات، ٣٧٣:١ )

اصل لفظ: اُجاڑْنا