اجیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مزدور، نوکر۔ "مرے پاس خسرے کی صفائی میں بہت سے اجیر تھے۔"      ( ١٩٠٣ء، لیکچروں کا مجموعہ، نذیر، ٤٣٧،٢ ) ١ - اجرت پر کام کرنے والا۔ "مضمون نگار آپ تلاش کر دیجیے مفت کے نہیں بلکہ اجیر۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٢٥، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٧٢ء کو "ہشت بہشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مزدور، نوکر۔ "مرے پاس خسرے کی صفائی میں بہت سے اجیر تھے۔"      ( ١٩٠٣ء، لیکچروں کا مجموعہ، نذیر، ٤٣٧،٢ ) ١ - اجرت پر کام کرنے والا۔ "مضمون نگار آپ تلاش کر دیجیے مفت کے نہیں بلکہ اجیر۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٢٥، ١٠ )

اصل لفظ: اجر