احاطہ
معنی
١ - چار طرف حد بندی کے لیے کھینچا ہوا حصار، چار دیواری، باڑھ، خط یا نشان جس سے کوئی جگہ یا شے محدود ہو (اصلی یا مجازی)۔ "ان میں سے کچھ بھیڑیں احاطے (باڑھ) سے نکل کر فرانس اور سوئٹزر لینڈ میں جاے پناہ تلاش کر رہی تھیں۔" ( ١٩٢٥ء، تاریخ یورپ جدید، ٢٧٨ ) ٢ - چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ (میدان یا مکان وغیرہ، محصور رقبہ، محدود علاقہ (اصلی یا مجازی) "آیندہ احاطہ عدالت میں نہ آنے پائے۔" ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٩، ٤٦:٢٣ ) ٣ - محلہ، بستی، باڑا، جیسے : احاطہ کالے صاحب (دہلی)، کچا احاطہ (لکھنو) "امیر احمد محمد جان کو ٹامس صاحب کے احاطے سے بلوائے لیتا ہوں۔" ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، ارمان، ١٣٠ ) ٤ - آنگن، صحن نامہ، تعمیر کے اطراف کھلی ہوئی جگہ جو اس عمارت کا جزو سمجھی جاتی ہے۔" "کچہری کے احاطے میں داخل ہوئے تھے کہ سنا ایک چپراسی آواز دے رہا ہے۔" ( ١٩١٠ء، دیباچہ مکاتیب امیر، ١٥ ) ٥ - دائرہ عمل و اختیار، عملداری، میدان کار، دسترس کی حد (اصلی یا مجازی) "ورزش اور نیند بھی ضروری ہیں جن کا ذکر اس کتاب کے احاطے سے باہر ہے۔" ( ١٩٤١ء، ہماری غذا، ٧ ) ٦ - زمین کا وہ حصہ یا خطہ جو انتظامی طبعی خصوصیات یا کسی اور لحاظ سے ایک وحدت قرار دیا جائے (جیسے : صوبہ، ضلع، پرگنہ وغیرہ)، علاقہ، خطہ، سرزمین۔ "نہایت تعجب ہوا کہ احاطہ مدراس میں ایسی صاف اور فصیح اردو۔" ( ١٩٠٨ء، مکاتیب حالی، ٩٣ ) ٨ - پورے اثر و رسوخ سے مسلط ہو جانا۔ "مبتلا کے پرانے یار دوستوں کو اس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا۔" ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ١٣٢ ) ٩ - وسعت، پھیلاؤ، سمائی "'جب کہ عشق و محبت میں اس قدر احاطہ اور جامعیت ہے . تو کیا ضرور ہے . کہ عشق کو . محدود کر دیا جائے۔" ( ١٨٩٣ء، مقدمہ حالی، ١٢٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال المعتل اجوف واوی سے مصدر 'اِحَاطَت' بنتا ہے۔ جس کو 'تائے مربوطہ' کے ساتھ بھی لکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح 'تائے مربوطہ اردو میں 'ہ' میں تبدیل ہو گئی۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چار طرف حد بندی کے لیے کھینچا ہوا حصار، چار دیواری، باڑھ، خط یا نشان جس سے کوئی جگہ یا شے محدود ہو (اصلی یا مجازی)۔ "ان میں سے کچھ بھیڑیں احاطے (باڑھ) سے نکل کر فرانس اور سوئٹزر لینڈ میں جاے پناہ تلاش کر رہی تھیں۔" ( ١٩٢٥ء، تاریخ یورپ جدید، ٢٧٨ ) ٢ - چار دیواری سے گھری ہوئی جگہ (میدان یا مکان وغیرہ، محصور رقبہ، محدود علاقہ (اصلی یا مجازی) "آیندہ احاطہ عدالت میں نہ آنے پائے۔" ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ١٩، ٤٦:٢٣ ) ٣ - محلہ، بستی، باڑا، جیسے : احاطہ کالے صاحب (دہلی)، کچا احاطہ (لکھنو) "امیر احمد محمد جان کو ٹامس صاحب کے احاطے سے بلوائے لیتا ہوں۔" ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، ارمان، ١٣٠ ) ٤ - آنگن، صحن نامہ، تعمیر کے اطراف کھلی ہوئی جگہ جو اس عمارت کا جزو سمجھی جاتی ہے۔" "کچہری کے احاطے میں داخل ہوئے تھے کہ سنا ایک چپراسی آواز دے رہا ہے۔" ( ١٩١٠ء، دیباچہ مکاتیب امیر، ١٥ ) ٥ - دائرہ عمل و اختیار، عملداری، میدان کار، دسترس کی حد (اصلی یا مجازی) "ورزش اور نیند بھی ضروری ہیں جن کا ذکر اس کتاب کے احاطے سے باہر ہے۔" ( ١٩٤١ء، ہماری غذا، ٧ ) ٦ - زمین کا وہ حصہ یا خطہ جو انتظامی طبعی خصوصیات یا کسی اور لحاظ سے ایک وحدت قرار دیا جائے (جیسے : صوبہ، ضلع، پرگنہ وغیرہ)، علاقہ، خطہ، سرزمین۔ "نہایت تعجب ہوا کہ احاطہ مدراس میں ایسی صاف اور فصیح اردو۔" ( ١٩٠٨ء، مکاتیب حالی، ٩٣ ) ٧ - (ایک شے کے کل اجزا) گھیرنے یا گھیرے جانے کا عمل، محیط یا حاوی ہونے کی کیفیت، حصر، جامعیت، گھیرنا محیط ہونا۔ "میں نے علوم عربیہ میں ان سے بڑھ کر کسی کو صاحب رسوخ و احاطہ نہیں پایا۔" ٨ - پورے اثر و رسوخ سے مسلط ہو جانا۔ "مبتلا کے پرانے یار دوستوں کو اس پر احاطہ کرنے کا موقع نہ ملا۔" ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ١٣٢ ) ٩ - وسعت، پھیلاؤ، سمائی "'جب کہ عشق و محبت میں اس قدر احاطہ اور جامعیت ہے . تو کیا ضرور ہے . کہ عشق کو . محدود کر دیا جائے۔" ( ١٨٩٣ء، مقدمہ حالی، ١٢٣ )