احب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس سے بہت زیادہ محبت ہو، زیادہ محبوب، محبوب تر۔ "آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب لوگوں سے اَحَب تھے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣٢٧:١ ) ٢ - پسندیدہ تر، زیادہ مستحسن۔ "جہاں م بنی ہو اس جگہ وقف کرنا احب ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، علم تجوید، ٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد میں مضاعف کے باب سے اسم تفضیل 'اَحَبُّ' ہوتا ہے۔ اردو میں کسی لفظ کا آخری حرف غیر متحرک ہوتا ہے لہٰذا اردو میں 'اَحَب' مستعمل ہوا۔ ١٨٠٩ء کو شاہ کمال کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس سے بہت زیادہ محبت ہو، زیادہ محبوب، محبوب تر۔ "آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب لوگوں سے اَحَب تھے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣٢٧:١ ) ٢ - پسندیدہ تر، زیادہ مستحسن۔ "جہاں م بنی ہو اس جگہ وقف کرنا احب ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، علم تجوید، ٢٤ )

اصل لفظ: حبب