احتجاج

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - استدلال، حجت یا دلیل پیش کرنے کا عمل۔ "براہ عنایت یہ بھی فرما دیں کہ ان کے اقوال سے احتجاج اور ابن عبدالوہاب نجدی کے اقوال سے احتجاج میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، تبرکات آزاد، ٢٩٤ ) ٢ - بالادست یا کسی خاص گروہ یا فرد کی کسی ناپسند بات کے خلاف، تقریراً یا تحریراً ناراضی کا اظہار، (انگریزی) Protest "برائی کے خلاف بہ آواز بلند احتجاج . کرتا رہے۔"      ( ١٩٥٨ء، ابوالکلام آزاد، مضامین، ١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٩٠ء کو "سیرۃ النعمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - استدلال، حجت یا دلیل پیش کرنے کا عمل۔ "براہ عنایت یہ بھی فرما دیں کہ ان کے اقوال سے احتجاج اور ابن عبدالوہاب نجدی کے اقوال سے احتجاج میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔"      ( ١٩٢٣ء، تبرکات آزاد، ٢٩٤ ) ٢ - بالادست یا کسی خاص گروہ یا فرد کی کسی ناپسند بات کے خلاف، تقریراً یا تحریراً ناراضی کا اظہار، (انگریزی) Protest "برائی کے خلاف بہ آواز بلند احتجاج . کرتا رہے۔"      ( ١٩٥٨ء، ابوالکلام آزاد، مضامین، ١١ )

اصل لفظ: حجج
جنس: مذکر