احتداد
قسم کلام: اسم حاصل مصدر
معنی
١ - حدت کی شدت، گرمی اور آنچ کی زیادتی اور تیزی۔ برد تن مائیت قارورہ فقدان عطش یہ دلائل ہیں حرارت میں جب آئے احتداد ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٣٠٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ ١٩١٩ء کو رعب کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: جدد
جنس: مذکر