احتراز

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - اجتناب، پرہیز، کنارہ کشی۔  یہ تونہیں کہ رونے کی حسرت نہیں رہی اشکوں کو اب مژہ سے مری احتراز ہے ٢ - تکلف، جھجک، کھینچنے اور دور رہنے کی صورت حال۔  آئے لیکن ہزار ناز کے ساتھ ملے مجھ سے تو احتراز کے ساتھ      ( ١٨٨٢ء، فریاد داغ، ١٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو خاورنامہ میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: حرز
جنس: مذکر