احتشام

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - کروفر، دبدبہ، شان و شکوہ۔  غرہ دنیا کی حکومت پر تو کرتے ہو مگر یاد ہے اسلام کا تم کو جلال و احتشام      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٥٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے، ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: حشم
جنس: مذکر